اعوان اولاد حضرت عباس علمبردارؒ

Awan Hazrat Abbas Qutab Shah

اعوان قبیلہ کو پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس کی جہاں اور بہت سی وجوہات ہیں ان میں سے ایک وجہ اعوان قبیلہ کا حضرت عباس علمبردار ؒ کی اولاد ہونا ہے۔ اعوان قبیلہ کی دستیاب روایات کے مطابق اعوان قوم کے جد اعلیٰ عون قطب شاہ ؒ بغداد سے تبلیغ کی غرض سے تشریف لائے اور ان کا پہلا ٹھکانہ وادی سون (ْضلع خوشاب )تھا اعوان قوم کی کوئی تاریخ کتابی شکل میں نہ تھی چنانچہ حکیم غلام نبی اعوان ؒ نے پہلے مولوی حیدر علی سے 1895ء میں تاریخ علوی کے نام سے تاریخ اعوان لکھوائی جو کوئی معیاری تحقیق نہ تھی چنانچہ 1901ء میں مولوی نور الدینؒ نے تاریخ زاد الاعوان اور تاریخ باب الاعوان لکھیں ۔ ان کتب کے بعد تاریخ اعوان پر تشنگی ختم ہوگئی مگر مولوی حیدر علی نے کسی حد تک مولوی نور الدین کی اس بات کہ عون قطب شاہ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ آیا تسلیم کرتے ہوئے ایک نئے نظریے کے ساتھ کتاب لکھ دی۔ 1930ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں کشمیر سے مولانا حسام الدین اعوان نے نسب الاعوان لکھ کر کشمیر کے اعوان گھرانوں کا ایک خوبصورت مشجر تیار کیا۔ یہاں تک اعوان قبیلے میں تاریخ مکمل اور سکون تھا۔ قیام پاکستان کے بعد اعوان بننے کی وبا نے جنم لیا اور 1975ء میں ان کی سرپرستی کے لئے ایک موصوف منظر عام پر آئے جن کا اپنا تو کوئی آگا پیچھا تھ انہیں انہیں اعوان قوم کی تاریخ مکمل فرضی اور خیالی لگی ۔ انہوں نے مولوی نور الدین کی شان میں جو منہ میں آیا لکھنا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی کتابوں کی سیل بڑھانے کے لئے دنیا جہان کے جس قوم نے خط لکھ دیا اس صاحب نے ان کا پورا شجرہ گھڑ کر لکھ دیا یوں اعوانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا اسی اثنا میں ملک میں جمہوریت نے سر اٹھایا تو سیاست زدہ اعوان تنظیم نے بھی ان نیو اعوانوں کی سرپرستی شروع کر دی بلکہ اس غیر شرعی عمل کی حوصلہ افزائی سے کئی نو مسلم سکھ بھی عہدوں پر پہنچ گئے۔ خیر 90کی دہائی میں وادی سون سے ملک محمد سرور اعوان نے دبنگ آواز اٹھائی اور ان گھس بیٹھیؤں کو للکارہ اور دو کتابیں تحریر کئیں۔ جس سے علاقہ اعوان کاری میں تو کراچی والوں کی ہرزہ سرائی کو کوئی پذیرائی نہ ملی مگر اعوان کاری کے باہر اعوان قوم کے نام پر ایک بندر ڈگڈگی شو لگا دیا گیا۔ ایک سے بڑھ کر ایک اعوان محقق اٹھا اور ہر ایک نے نئی ہانکی اور تحقیق اور علم کم ہونے کے ناطے مولوی نور الدین کو آڑے ہاتھوں لے کر اپنی جھوٹی اور خود ساختہ تحریر کو سچ ثابت کرنے کے لئے مولوی نور الدین کی سچی تحقیق پر چڑھ دوڑنا فرض عین سمجھتے۔ موجودہ صدی کے آغاز پر ایک ایسا تاثر بن چکا تھا کہ اعوان قبیلہ بدترین بے یقینی کا شکار تھا اور باقی قومیں ان کا مذاق اڑاتی تھیں چنانچہ 2011ء میں افکار الاعوان کی بنیاد رکھی گئی اور از سر نو تحقیق شروع کی گئی ۔ اصل النسب اعوانوں نے سکھ کا سانس لیا اور بھر پور حوصلہ افزائی کی۔ چنانچہ پہلی کاوش جس میں افکار الاعوان دنیا کو متوجہ کرنے میں کامیاب ہوئی وہ تحفۃ الاعوان تھی۔ یہ ابتدائی تحقیق تھی جس نے کافی حد تک جوابات دے دئیے ۔

Awans Qutab Shahi
PANJAB NOTES &’ QUERIES Vol III P 118

افکار الاعوان اور علاقہ اعوان کاری کے اعوان اس بات پر کوئی دوسری رائے نہیں رکھتے تھے یا کسی قسم کا کوئی ابہام نہ تھا کہ اعوان حضرت عباس علمبردار کی اولاد ہیں ۔ بلکہ انہیں یقین تھا اور بارہا کہا گیا کہ عون قطب شاہ بغدادی کا ذکر سب سے پہلے مولوی نور الدین نے نہیں کیا بلکہ وادی سون کے قدیم مشجر اور دیگر حوالہ جات و روایات میں عون قطب شاہ ہی بیان کیا جاتا ۔ مگر یہ گھُس بیٹھیا گروپ میں نہ مانوں کی پالیسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے سازشوں میں مصروف رہا۔ بالآخر کراچی والی سرکار کو بے ادبی بدہضمی ہوئی اور انہوں نے ایک گستاخانہ کتاب لکھ ماری خیر بہت جلد ان کو احساس ہو گیا کہ پیکر وفا ؒ کی اولاد پر وار ان کی اہل بیت سے منافقت کا نتیجہ ہے۔
گل سلطان اعوان قبیلہ پر ایک فیصلہ کن تحقیق میں مصروف ہیں اور اس میں ؤہ ایک بہت بڑی تاریخ کی کتاب ترتیب دے چکے ہیں مگر تحقیقی میدان میں آئے روز نئی نئی راہیں نکل رہیں ۔ سو تازہ ترین پیش رفت خوش فہم اعوانوں جن کے من پسند کردار ملک قطب حیدر، سالار، غازی، سپہ سالاروغیرہ سے مرعوب اور سید ، مخدوم بننے کا بے انتہا شوق ہے ان کے لئے موت سے کم نہیں کیونکہ آج تک یہ کہتے آئے ہیں کہ مولوی نور الدین سے پہلے کوئی عون قطب شاہ بغدادی کا ذکر نہ کرتا تھا اور یہ کردار حکیم غلام نبی ؒ کے کہنے پر مولوی نور الدین نے تراشا۔ چنانچہ 1886ء میں تحریر ہونے والی یہ کتاب

PANJAB NOTES &’ QUERIES

کے والیم تین کے صفحہ 118کی اس تحریر نے ان کی چالیس سالہ دشنام طرازی کو ان ہی کے لئے ذلت کا باعث بنا دیا جس سے صاف پتہ چل رہا کہ قطب شاہ بغداد والے تھے غزنوی نہ تھے بلکہ لفظ اعوان کے بارے میں بھی کراچی والی سرکار کی دال دلیل کے برعکس ایک نئی PANjAB NOTES and QUERIESتعریف سامنے آئی۔ سو اب ایک کتابی حوالہ سے علاقہ خوشاب جو اس وقت ضلع شاہپور کا حصہ تھا اور ہوشیار پور کے اعوان تو اس قطب شاہ کی اولاد ہیں جو بغداد سے یہاں آیا تو اب مزید کیا پراپیگنڈا باقی رہ گیا جو تم لوگ کرو گے۔ مسٹر سن لو جو ہوں وہ مل بھی جاتے ہیں اور جو تراشے گئے ہوں جیسے تیرا سالار قطب حیدر اس کے لئے ماسوائے ذلت کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ میری قارئین سے گزارش ہے کہ آپ گواہ ہیں آج تک کے الزامات اور ہماری طرف سے صفائیاں دینے کے اب اس ثبوت کے بعد جن جن لوگوں نے مولوی نور الدین کے خلاف بک بک کی ان کا احتساب بھی آپ نے کرنا ہے اور جے آئی ٹی بھی آپ ہیں ۔ ان جھوٹے کذابوں پر لعنت بھیج کر اسے زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تا کہ فتنہ کا قلع قمع کیا جا سکے ۔ شکریہ
آپ کی دعاؤں کا طلبگار شاہ دل اعوان ایڈووکیٹ

15 thoughts on “اعوان اولاد حضرت عباس علمبردارؒ”

  1. قطب شاہ تو عون بن یعلی ھی ھیں اور موجودہ شجروں کی پٹیاں انھیں کے فرزندوں تک پہنچتی ھیں مگ یہ کہنا کہ یہ ساری اولاد حضرت عون قطب شاہ کی ھے ٹھیک نہ ھے اس میں حضرت عبد اللہ بن قطب حیدر کے پانچ فرزندوں اور دیگر علوی سادات جو نسبی مجہول ھو چکےلوگتھے تھے بھی شامل کر لئے گئے ھیں ھیں۔ اسکے علاوہ بھی مراثیوں نے غیر قریشی نو مسلموں کو گھسیڑ دیا ھے ھے ان سب باتوں کی نشان دیہی کے لئے میری ID کی visit کرلیں

  2. واہ اعلی یہ واقعی ایک فرضی کردار قطب حیدر غازی کےپیچھےلگے ھوئے ھیں

  3. سلام علیکم, ما شاء اللہ جناب محترم و مکرم شاہ صاحب: کیا کہنا آپ کی ٹیم نے ثابت کر دیا کہ اب تک چور دروازے سے اعوان بننے والے اور اپنے باپ دادا کو بدل بدل کر پیش کرنے والے مسٹر محبت اور ان کے اندھے مقلدین جو حضرت عون قطب شاہ کی ازواج مطہرات اور پاکیزہ اولاد کو کسی افسانوی ملک قطب حیدر سے اٹیچ کر کے لعنت کے مستحق ہیں چونکہ حدیث کی روشنی میں اگر کوئی اپنا باپ بدلے یا کسی دوسرے کا باپ بدلنے کی بیہودہ کوشش کرے تو وہ ملعون ہوتا ہے۔ بے شک اس پر اللہ اور اس کے رسول کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی لعنت برستی ہے۔ اب چونکہ حقیقت واضح تر ہو گئی ہے توجناب اب سوال یہ ہے کہ کیا اگر یہ اس لعنت سے بچنے کے لیے پیشمان ہو کر توبہ کر لیں تو ان کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟

  4. بسمہ تعالیٰ
    اللہ آپ کو مزید حقائق سامنے لانے اور حق پر مبنی انکشاف کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، اور حضرت عباس علمدار ابن امام علی (صلوات اللہ علیہما) کی وکالت پر زور طریقہ سے کرنے توفیق مزید کے ساتھ ساتھ آپ کو یزید پرستوں کے شر سے بچائے۔

  5. ماشاءالله بهت خوب …زور قلم زیاده هو اور
    کذابون پر لعنت هو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *